نئی دہلی20 جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا ) مودی حکومت کے خلاف پہلے عدم اعتماد کی تجویز پر راہل گاندھی نے نفرت کی سیاست پر جم کر حملہ کیا اور کہا کہ ان کے یہاں نفرت نہیں ہے۔ اپنا بڑا دل دکھاتے ہوئے خود پر کی جانے والی ذاتی تنقید کا بھی خیر مقدم کیا۔اپنی تقریر کے آخر حصہ میں راہل نے خود کو ہندو اور شیوبھکت قرار دیا۔ اتنا ہی نہیں راہل نے بڑا دل دکھاتے ہوئے اپنا مذاق اڑائے جانے کا بھی خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھے پپو کہیں، کتنی بھی گالی دیں، لیکن میں نفرت نہیں کرسکتا۔ راہل نے اپنی تقریر میں کانگریس کے مطلب کی بخوبی وضاحت کی۔انہوں نے کہاکہ کوئی اگر نفرت کرتا ہے تو بھی میں اس کو گلے لگاتا ہوں۔ راہل نے کہا کہ آپ لوگوں کے اندر میرے لئے نفرت اور اشتعال ہے ،آپ مجھے پپو اور کئی گالیاں دے کر بلا سکتے ہیں؛ لیکن میرے اندر آپ کے لئے نفرت نہیں ہے۔راہل نے اپنے ہندو ہونے کا مطلب سمجھانے کے لئے وزیر اعظم، بی جے پی اور آر ایس ایس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دل سے کہتا ہوں کہ میں وزیر اعظم، بی جے پی اور آر ایس ایس کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے مجھے کانگریس کا مطلب سمجھایا۔ اس کے لئے میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کو بتا دیں کہ مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پر بحث کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جم کر نشانہ لگایا۔ انہوں نے روزگار، 15 لاکھ روپے کے وعدے، نوٹ بندی ، جی ایس ٹی، رافیل ڈیل، کسانوں کی بدحالی، مآب لنچنگ اور خواتین کی سیکورٹی کو لے کر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ انہوں نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ جملوں والی حکومت ہے۔